11218801_989702791048274_5558618764112836293_n گلگت (نامہ نگار) گلگت بلتستان الیکشن کے حوالے سے پیپلزپارٹی کے بعد تحریک انصاف اور جمعیت علمائے اسلام نے بھی دھاندلی کا الزام عائدکردیا جبکہ قوم پرست تنظیم بی این ایف نے قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کو ڈھونگ اور اسمبلی کو بے اختیار قرار دیتے ہوئے آزاد کشمیر طرز کی اسمبلی قائم کرنے کا مطالبہ کردیا، تحریک انصاف نے راجہ جلال مقپون کی جگہ ن لیگ کے اکبر کی کامیابی کے فیصلے کی بھرپور مذمت کی اور کہا کہ راجہ جلال کو بحال نہ کیا گیا تو گلگت بلتستان سے اسلام آباد تک دھرنے دیئے جائیں گے، پی ٹی آئی کے راجہ جلال نے دوبارہ گنتی کے خلاف الیکشن ٹربیونل سے رجوع کرنے کا فیصلہ کرلیا، اس طرح دیامر کے حلقہ نمبر3 میں بھی جے یو آئی کی جگہ غیر سرکاری نتائج کے مطابق مسلم لیگ ن کے حیدر خان کو کامیاب قرار دیا گیا، ضلع غذر کے حلقہ نمبر 2 سے منتخب آزاد امیدوار فدا خان فدا نے مسلم لیگ ن میں شرکت کا اعلان کردیا، اس طرح مسلم لیگ ن کے اراکین صوبائی اسمبلی کی تعداد 13سے بڑھ کر 16 ہو گئی جبکہ پی ٹی آئی اور جے یو آئی کے اراکین کی تعداد دو دو سے گھٹ کر پیپلزپارٹی کی طرح ایک ایک ہوگئی دریں اثناء گلگت بلتستان میں حکومت سازی کیلئے مسلم لیگ ن کے رہنما حفیظ الرحمن کو اسلام آباد طلب کرلیا گیا، حفیظ الرحمن کل وزیراعظم نواز شریف سے ملاقات کریں گے،آن لائن کے مطابق حفیظ الرحمن نے کہاہے کہ ہم تمام سیاسی جماعتوں اورکارکنوں کا احترام کرتے ہیں ،ایک یا دو نشستیں حاصل کرنے والی جماعتوں کے نمائندوں کودیوار سے نہیں لگائیںگے علاوہ ازیں فری اینڈ فیئر الیکشن نیٹ ورک (فافن) نے گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کیلئے انتخابات کو انتہائی منظم اور پرامن قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ گلگت بلتستان قانون اسمبلی کیلئے انتخابات میں ووٹروں کا ٹرن آئوٹ انتہائی متاثر کن رہا اور انتخابی عمل انتہائی منظم اور پرامن انداز میں مکمل ہوا۔

بشکریہ:  نوائے وقت

Comments are closed.