bunji
استور (شمس پارس قریشی )بونجی کی منفردتاریخی اور سماجی حیثیت کو حالیہ عام انتخابات میں شدید زک پہنچی ہے جب اس علاقے سے تعلق رکھنے والے تمام امیدوار قانون اسمبلی کے حلقہNA-14سے اپنی ضمانت ضبط کروا بیٹھے اورعوامی امنگوں پر پورا اترنے میں ناکام رہے۔ اس حلقے سے ایک نوزائیدہ امیدوار بر کت جمیل نے مسلم لیگ (ن) کے ٹکٹ پر3791ووٹ لیکر کامیابی حاصل کی جبکہ جماعت اسلامی کے مولانا عبد السمیع2662ووٹوں کیساتھ دوسرے نمبر پر رہے۔بونجی سے سب سے زیادہ ووٹ تحریک انصاف کے کنوینئر حشمت اللہ خان1045حاصل کئے جبکہ سابق ممبران اسمبلی محمد نصیر خان اور نصر اللہ خان نے بالترتیب618اور448حاصل کئے۔بونجی سے تعلق رکھنے والے تمام امیدواروں کی ضمانت ضبط ہو نے کے بعد علاقے کے نوجوانوں نے مطالبہ کیا ہے کہ بونجی کا تاریخی تشخص بحال کر نے کیلئے اب نوجوان نسل کو فعال کردار ادا کر نا ہوگا اور آئندہ انتخابات میں نوجوان متحد ہو کراعلیٰ تعلیم یافتہ اور پرعزم نوجوان رہنما کو سامنے لائیں گے۔

گلگت بلتستان کی تاریخ میں استور کے مشہور قصبے بونجی کو نمایاں حیثیت حاصل ہے اورعسکری نقطہ نظر سے یہ علاقہ قیام پاکستان سے قبل بھی دفاعی لحاظ سے اہم سمجھا جاتا تھا۔بونجی سے ہی گلگت بلتستان کو آزاد کر نے کیلئے چھٹی کشمیر انفنٹری کے جوانوں نے گلگت شہر پر دھاوا بول کر کر نل (ر) حسن خان کی قیادت میں گلگت بلتستان کی آزادی کیلئے آغاز کیا تھا۔بونجی کے باسیوں نے گلگت بلتستان کی سیاست کے علاوہ بیوروکریسی اور دفاعی اداروں میں کارہائے نمایاں سر انجام دئیے ہیں ۔گلگت بلتستان کے پہلے لیفٹننٹ جنرل بننے کا اعزاز بھی بونجی کے ایک بہادر سپوت لیفٹیننٹ جنرل (ر) ڈاکٹر محمد نجم خان کو حاصل ہے جبکہ گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والے پہلے کورکمانڈر جنرل ہدایت الرحمن بھی بونجی کی مردم خیز علاقے کے باسی ہیں۔بونجی سے گلگت بلتستان اسمبلی میں دو بار محمد نصیر خان اور دو بارنصر اللہ خان NA-14 استور سے کامیاب ہو تے رہے ہیں۔محمد نصیر خان پیپلز پارٹی کے سابق دور میں وزیر برائے ایکسائز و ٹیکسیشن بھی رہے ہیں۔تحریک انصاف گلگت بلتستان کے بانی کنوئنیراے آئی جی (ر) حشمت اللہ خان کا تعلق بھی بونجی ہے۔

Comments are closed.