012گلگت ( فرمان کریم) گلگت بلتستان کے نئے مالی سال 16-2015 کے لئے31ارب 92کروڑ 18 لاکھ 5 ہزار روپے کا ترقیاتی و غیر ترقیاتی بجٹ منظوری کے لئے قانون ساز اسمبلی میں پیش کردیاگیا۔ ترقیاتی اخراجات کے لئے وفاقی حکومت کے منصوبوں سمیت کل 9 ارب 93کروڑ 70لاکھ روپے ،جبکہ غیر ترقیاتی اخراجات کے لئے 21ارب 98کروڑ 48لاکھ روپے مختص کئے گئے ہیں ۔

اتوار کی سہ پہر تین بجے جب نو منتخب قانون سازاسمبلی کا بجٹ اجلاس شروع ہوا تو اسپیکر اسمبلی حاجی فدا محمد ناشاد نے وزیراعلیٰ حافظ حفیظ الرحمٰن کو دعوت دی کہ وہ گلگت بلتستان کا سالانہ بجٹ سال 2015-16 ایوان میں پیش کرے ۔ جس پر وزیراعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمٰن نے بجٹ تقریر کرتےہوئے کہا کہ حکومت نے انتہائی مختصر دورانیئے میں ایک عوام دوست بجٹ پیش کیا ہے امید ہے یہ ایوان بجٹ میں اپنی کارآمد تجاویز کو سامنے لا کر اسے مزید بہتر بنانے میں حکومت کی معاونت کرے گا۔

انہوں نے بجٹ تقریر میں کہا کہ گلگت بلتستاتن کے سالانہ ترقیاتی پروگرام کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے جس کے مطابق وفاقی حکومت کی جانب سے ملنے والے منصوبوں پر 1 ارب 73کروڑ 70 لاکھ روپے بجلی کے پانچ جاری اور دو نئے منصوبوں کے لئے مختص کئے گئے ہیں جبکہ دوسرے حصے میں 8 ارب 20 کروڑروپے گلگت بلتستان کے سالانہ ترقیاتی منصوبوں کے لئے مختص کئے گئے ہیں ۔ بجٹ میں گلگت بلتستان سطح کے ترقیاتی منصوبوں کے لئے 2ارب 53کروڑ 32 لاکھ روپے ، اسی طرح تمام اضلاع کے لئے بھی الگ الگ ترقیاتی بجٹ آبادی کے تناسب سے مختص کیا گیا ہے، جس کے تحت ضلع گلگت کے لئے 75 کروڑ 14 لاکھ ،ضلع سکردو کے لئے 1 ارب 10 کروڑ 50 لاکھ، ضلع دیامر کے لئے 66 کروڑ 30 لاکھ ،ضلع غذر کے لئے 63کروڑ 18 لاکھ ، ضلع ہنزہ نگر کے لئے 48کروڑ 62لاکھ ، ضلع گھانچھے کے لئے 42کروڑ 70لاکھ روپے جبکہ ضلع استور کے لئے 35 کروڑ 36لاکھ روپے مختص کئے گئے ہیں ۔

حافظ حفیظ الرحمٰن نے بجٹ تقریرمیں کہا کہ گلگت بلتستان میں غیر قانونی گاڑیوں کی نقل و حمل کو روکنے کے لئے ایک نئے منصوبے کے لئے 1 کروڑ 43لاکھ روپے مختص کئے گئے ہیں جبکہ امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لئے 23 کروڑ سات لاکھ سے زائد رقم مختص کی گئی ہے۔

اعلیٰ عدلیہ کو مزید فعال بنانے کے لئے 4 کروڑ 59لاکھ روپے مختص کئے گئے ہیں ۔ توانائی کے شعبے کی ترقی کے لئے 2ارب 49کروڑ 47 لاکھ روپے مختص کئے گئے ہیں ۔ مواصلات کی مختلف منصوبوں کے لئے 1 ارب 20 کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں۔ تعلیم کے شعبے کی ترقی کے لئے 70کروڑ 64لاکھ روپےمختص کئے گئے ہیں جن میں سے ہر سال مستحق طلباء کو میرٹ کی بنیاد پر وظائف دیئے جایئں گے۔ اس کے علاوہ پہلی بار علاقے میں طلباء کے لئےENDOWMENT FUND قائم کیا جارہاہے جبکہ ضلع دیامر میں مزید 100 ہوم اسکولز قائم کرنے کی تجویز بھی زیر غورہے، صحت کی ترقی کے لئے 59 کروڑ 47لاکھ روپے ، جنگلات اور ماحولیات کے شعبے کی بہتری کے لئے 13 کروڑ 67لاکھ روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے ۔

حافظ حفیظ الرحمٰن نے کہا کہ سیاحت کے شعبے میں 18 کروڑ 15 لاکھ 41 ہزار روپے دو نئے اور 35 جاری منصوبوں کے لئے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ دیہی وشہری علاقوں کی ترقی کےلئے 42کروڑ 62لاکھ روپےمختص کئے گئے ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ گلگت بلتستان کے مالی سال 2015 -16 کی آمدن کو پہلی بار سالانہ بجٹ کا حصہ بنایاگیاہےاور محصولات کا حدف ابتدائی طور پر 76 کروڑ 28 لاکھ 29 ہزار روپے مقرر کیا گیا ہے ۔ وزیر اعلیٰےکے بجٹ تقریر کے بعد سپیکر فدا محمد ناشاد نے اسمبلی اجلاس منگل 30 جون سہ پہر تین بجے تک ملتوی کرنے کا اعلان کیا۔

Comments are closed.