Imran-Nadeemعمران ندیم حلقہ 6 شگر سے پاکستان پیپلزپارٹی کے ٹکٹ پر الیکشن جیتے ہیں، پاکستان پیپلزپارٹی کے واحد امیدوار ہےجو گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کیلئے رکن منتخب ہوئے ہیں۔ اس سے پہلے عمران ندیم تحریک جعفریہ پاکستان کے پلیٹ فارم سے بھی الیکشن میں حصہ لے چکے ہیں اور اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے تھے۔ تاہم تحریک جعفریہ پر پابندی لگنے کے بعد وہ پاکستان پیپلزپارٹی سے وابستہ ہوگئی۔ حالیہ الیکشن میں اسلامی تحریک نے انہیں بھرپور سپورٹ کیا ، جس کے باعث وہ اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے ہیں اور اس بات کا برملا اعتراف بھی کرتے ہیں۔ ہم نے ان سے اپوزیشن لیڈر کے انتخاب سے متعلق کچھ اہم سوالات کئے ہیں، جو قارئین کیلئے پیش خدمت ہیں۔

سوال: اپوزیشن لیڈر کیلئے آپکے نام کا بھی سنا تھا، پھر کیا وجہ بنی کہ آپ اپوزیشن لیڈر کے امیدوار نہ بن سکے یا پھر جے یو آئی ف کے امیدوار کو لانا پڑ گیا۔؟

عمران ندیم: حقیقت میں تو میں اپنی جماعت سے واحد رکن ہوں، لیکن اپوزیشن جماعتوں کو ملا کر ہم سب گیارہ ارکان بنتے ہیں۔ جس میں سے چار اسلامی تحریک، تین ایم ڈبلیو ایم اور باقی ہم ایک ایک والے شامل ہیں، یوں ٹوٹل ملا کر گیارہ اپوزیشن ارکان کی تعداد بنتی ہے۔ چند دن پہلے ایک اجلاس جس میں، میں نہیں تھا، چھ ارکان نے میرا نام بطور اپوزیشن لیڈر کے تجویز کیا تھا، تاہم ایک شرط بھی عائد کر دی تھی کہ میں اسلامی تحریک کی بھی حمایت حاصل کر سکوں، پھر اسلامی تحریک کے دوستوں سے ملا اور انہیں اپنی حمایت کیلئے درخواست کی، تاہم انہوں نے اپنے لئے حمایت کرنے کیلئے اصرار کیا۔ اس پر میں نے کہا کہ آپ 6 میں سے کسی ایک امیدوار کو اپنے ساتھ ملا لیں تو میں آپ کی حمایت کروں گا، میں نے کہا کہ اگر آپ چار سے پانچ امیدوار لانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو میں آپ کی حمایت کروں گا۔ لیکن اسلامی تحریک کے دوست کوئی فیصلہ نہ کر پائے۔

اسلامی تحریک کے اپنے تین ممبران تھے اور وہ تینوں اپوزیشن لیڈر بننے کیلئے امیدوار تھے اور آپس میں کسی ایک امیدوار کے حق میں بیٹھنے کیلئے تیار نہ تھے تو میرے لئے مشکل تھا، کیونکہ باقی جن چھ دوستوں نے میرا نام بطور اپوزیشن لیڈر امیدوار تجویز کیا تھا، انہوں نے مجھے کہا کہ ہم نے تو آپ کو آفر کی تھی، لیکن آپ اسلامی تحریک کی حمایت لینے میں کامیاب نہیں ہوسکے، اب ہم آپ کا نام قرعہ اندازی میں ڈالتے ہیں، اگر آپ کا نام قرعہ میں نکل آتا ہے تو ہم آپ کو اپوزیشن لیڈر بنا دیں گے، اس پر میں نے ان کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ نہیں آپ میرا نام شامل نہ کریں، آپ نے میرا نام لیا اور حمایت کی یقین دہانی کرائی، اس پر میں آپ کا احسان مند ہوں، آپ نے جو فیصلہ کیا ہے میں بطور ایک رکن آپ کے ساتھ ہوں۔ چھ ارکان کے نام قرعہ کیلئے ڈالے گئے تو قرعہ جے یو آئی کے شاہ بیگ کے نام نکل آیا۔ ظاہر ہے کہ اس فیصلے میں ہم ساتھ لوگ شامل تھے تو ہم نے ملکر پھر شاہ بیگ کو سپورٹ کیا۔

سوال: یہ بتایئے گا کہ جب متحدہ اپوزیشن بنی تھی اور اسکا پہلا اجلاس ہوا تھا تو اس میں اسلامی تحریک شامل تھی اور اس اجلاس میں کیا فیصلہ کیا گیا تھا، اسکے علاوہ آج کے اجلاس کی بھی کارروائی بتائیں۔؟

عمران ندیم: جی ہاں، آج جب اپوزیشن لیڈر کا انتخاب ہوا تو اسلامی تحریک نے اس فیصلے کو ماننے سے انکار کر دیا اور کہا کہ ہم اس فیصلے کو نہیں مانتے۔ ان کا مطالبہ تھا کہ ہمیں الگ بنچ دے دیں، کیونکہ اسمبلی میں دو ہی بینچ ہوتے ہیں ایک حکومتی اور دوسرا اپوزیشن بنچ ہوتا ہے، اسلامی تحریک کے دوست ہمارے ساتھ ہی بیٹھے تھے اور آج کی ڈیبیٹ میں بھی مکمل حصہ لیا۔ لیکن ان کا یہ کہنا تھا کہ ہمیں الگ سے بنچ دیں تو اس پر اسپیکر صاحب نے کہا کہ آپ اکثریت ثابت کرنے میں کامیاب نہیں ہوئے، جبکہ شاہ بیگ صاحب سات ارکان کی حمایت لینے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ اس لئے الگ بینچ کیسے دیئے جاسکتے ہیں۔

سوال: متحدہ اپوزیشن کے حوالے سے اسلامی تحریک کا موقف ہے کہ وہ کسی اجلاس میں شریک نہیں ہوئے، کیا ایسا ہے ۔؟

عمران ندیم: دیکھیں، پہلے اجلاس میں یہ سب نے ملکر فیصلہ کیا تھا کہ ہم اپوزیشن کا رول ادا کریں گے اور اتفاق رائے سے اپوزیشن لیڈر کا فیصلہ کریں گے، یہ بات پہلی میٹنگ میں کی گئی تھی، اس کے بعد ایک دو اجلاسوں کے بعد متحدہ اپوزیشن کے فیصلے کے برعکس اسلامی تحریک نے پاکستان مسلم لیگ نون کو کسی حد تک سپورٹ کیا۔ اس سے ہمارے چھ لوگ حیران ہوگئے کہ ابھی ان کو ہم نے اپوزیشن لیڈر بنایا نہیں اور ابھی سے ہم سب کو ملاکر وہ مسلم لیگ نون کے وزیراعلٰی اور اسپیکر کی حمایت میں بیانات دے رہے ہیں، اگر ہم نے ان کو اپوزیشن لیڈر بنا دیا تو یہ حکومت کی بی ٹیم بن جائیں گی۔ اس پر باقی چھ ارکان کے تحفظات تھے، اس کے علاوہ کیپٹن سکندر کو وہ ماننے کیلئے بالکل تیار نہیں تھے۔ اس کے علاوہ میں نے آپ کو بتایا کہ اسلامی تحریک کے چار ممبران میں سے ایک خاتون ہے اور باقی تین مرد ممبران رہ گئے، جو اس پر اتفاق نہیں کر پائے تھے کہ ان میں سے کس نے اپوزیشن لیڈر بننا ہے۔

اصل ایشو یہ تھا کہ اسلامی تحریک پہلے دن سے اپنی امیدوار سامنے لاتی اور کہتی کہ ہمارا اپوزیشن لیڈر کیلئے امیدوار یہ صاحب ہیں یا اپنا پارلیمانی لیڈر متعارف کرا دیتی کہ یہ ہمارا پارلیمانی لیڈر ہے جس پر دیگر جماعتیں اس پارلیمانی لیڈر کو دیکھ کر فیصلہ کرتیں کہ اس کو ماننا ہے یا نہیں ماننا، یا ان سے مذاکرات کرنے ہیں یا نہیں ۔ اب اسلامی تحریک کے جس سے بھی بات کریں تو پہلے دن وہ کچھ کہتے تھے اور اگلے دن یہ کہتے تھے کہ ہمارے پارٹی والے یہ بات نہیں مانے۔ اس طرح تو اسمبلی میں کام نہیں چلتا۔ ہم چھ افراد نے کوشش کی تھی کہ ان کو سپورٹ کریں، لیکن یہ چار ارکان تقسیم تھے جبکہ دیگر اپوزیشن کے سات ارکان ایک ساتھ تھے، اب ظاہر ہے کہ جہاں اکثریت ہو وہاں سپورٹ کرنا ہوتا ہے۔ اب اگر میں ان کا ساتھ دے بھی دیتا تو ان کے پانچ ارکان بن جانے تھے۔ اس کے علاوہ اپوزیشن کے دیگر ارکان نے میرے اوپر ایک احسان بھی ڈال دیا تھا، بھلے نیت کچھ بھی ہو، لیکن انہوں نے بلآخر میرا نام تجویز کر دیا، باقی بننا نہ بننا میری قسمت کی بات تھی۔ اس لئے میرا فرض تھا کہ میں انہیں سپورٹ کروں۔

سوال: اب آپ سب لوگوں نے ملکر جے یو آئی کے شاہ بیگ کو اپوزیشن لیڈر بنا دیا ہے، کیا توقع ہے کہ وہ بطور اپوزیشن لیڈر اپنی ذمہ داری نبھا پائیں گی۔؟

عمران ندیم: جی بالکل کیوں نہیں، ہم اپوزیشن کا بہتر رول ادا کریں گے۔ یہ بات درست ہے کہ شاہ بیگ صاحب تقاریر اچھے انداز میں ڈیلیور نہیں کرسکتے لیکن وہ ایک مخلص انسان ہیں۔ ہم سب مل کر اپوزیشن کا رول ادا کریں گی، ظاہر ہے اپوزیشن فقط ایک بندے کا نام تو نہیں ہوتا ، اگر میں بھی اپوزیشن لیڈر بن جاتا تو میری من مانی نہیں ہونی تھی، سب کے مشورے کیساتھ آگے بڑھنا تھا، اسی طرح شاہ بیگ صاحب بھی جو بھی فیصلہ کریں گے وہ ہم سب کو اعتماد میں لیکر کریں گے۔

Comments are closed.