تحریر: منظور حسین پروانہ ، چئیرمین 

manzoor parwanaگلگت بلتستان میں صوبائی طرز کی قانون ساز اسمبلی کی 24 سیٹوں کے لئے 8 جون 2015ء کو منعقد ہونے والے عام انتخابات دھاندلی کے مبینہ الزامات اور ریاستی مشینری کے استعمال کے ساتھ اپنی منطقی انجام کو پہنچی ہے۔ جہاں ان انتخابات کے دوران انتخابی عمل کو پر امن اور شفاف بنانے کی حکومتی دعوے کانوں کو تھکا دیتی ہیں وہاں قانون ساز اسمبلی حلقہ 10 میں سیکورٹی اہلکاروں اور ایک مذہبی جماعت کے حامیوں کے درمیان تصادم کی وجہ سے ہلاک ہونے والے نوجوان اکبر شاہ ولد غلام اکبر ساکن سبسر روندو، ضلع سکردو کی ماں کی فریاد پر امن انتخابات کی راگ الاپنے والوں کے لب پر خاموشی کا مہر ثبت کر رہی ہے۔

8 جون کی رات سکیورٹی اہلکاروں کے ہاتھوں جس بے دردی سے قانون ساز اسمبلی حلقہ 10 کے عوام پر تشدد ہوا اس کی کوئی نظیر دنیا میں نہیں ملتی۔ سکیورٹی ادارے کے ایک اہلکار سے تکرار اور دفعہ 144 کے نفاذ کی آڑ میں روندو میں سینکڑو ں افراد کو تشدد کا نشانہ بنا یا گیا۔ سکیورٹی اداروں کی کاروائی کے دوران ایک نوجوان اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھا جنہیں گلگت بلتستان میں انتخابات 2015ء کا اکلوتا شہید کہا جا رہا ہے ۔ اسٹیشن کمانڈر سکردو بریگیڈئیر احسان محمود نے ہلاک ہونے ولے نوجوان کی نماز جنازہ میں خصوصی شرکت کی اور اظہار افسوس کرتے ہوئے اسے ایک حادثہ قرار دیا۔

انتخابی عمل کے دوران ووٹرز کو خوف زدہ اور دہشت زدہ رکھنے کے ساتھ ساتھ پولنگ ایجنٹس کو غیر فعال اور معطل کر کے رکھنے میں فورسس کے کردار کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا تاہم پولنگ بوتھ کے ساتھ مسلح فورسس کی تعیناتی نے بہت سارے ووٹ فول کروانے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ خوف کھانے والے دیہاتیوں کی ایک خاص تعداد نے پولنگ اسٹیشنوں کی طرف رخ کرنے کی زحمت ہی نہیں کی تا ہم تیزو چالاک ووٹروں نے اپنے کیا مردہ لوگوں کے ووٹ بھی کاسٹ کئے۔ مردہ ووٹرز نے چند نمائندوں کی جیت میں زندہ ووٹرز سے بھی نمایاں رہے۔ ووٹنگ کے دوران سب سے زیادہ خیانت ووٹ کا استعمال نہ جاننے والوں کے ساتھ ہوا ، ووٹ کا استعمال کرنے کی ذمہ داری پولنگ آفیسر کو دی گئی تھی تاہم پولنگ آفیسرز نے ٹھپہ ووٹرز کی مرضی کے خلاف اپنی پسندکے امیدوار کے انتخابی نشان پر لگا کر سادہ لوح ووٹرز کو چلتا کر دیا۔

گلگت بلتستان میں لیگل فریم ورک آرڈر 2009ء کے تحت ہونے والے انتخابات میں حسب سابق اسلام آباد کے حکمرانوں نے اپنی من پسند نتائج حاصل کرنے میں خاطر خوا ہ کامیابی حاصل کی ہیں۔ حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ نواز نے بھاری اکثریت سے سیٹیں حاصل کرکے گلگت بلتستان میں نو آبادیاتی نظام حکومت کو دوام بخشوانے میں اپنا لوہا منوایاہے۔ مذہبی اور دیگر سیاسی جماعتوں کو بھی کوٹہ پر ایک آدھ سیٹیں ملی ہیں جو کہ ان جماعتوں کے وجود کو برقرار رکھنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں ۔

گلگت بلتستان کی انتخابات میں پاکستان مسلم لیگ کی بھاری برتری کے کئی وجوہات سامنے آئے ہیں جن میں بنیادی وجہ پاکستان مسلم لیگ کی وفاق میں قائم حکومت ہے۔ چونکہ گلگت بلتستان اسلام آباد کے برائے راست کنٹرول میں ہونے کی وجہ سے انتظامی و مالیاتی معاملات میں وفاق کے زیر نگیں ہے اس لئے گلگت بلتستان میں وہی جماعت حکومت بناتی ہے جو اسلام آباد میں حکومت کر رہی ہوتی ہے۔ مسلم لیگ ن کی کامیابی کی دوسری اہم وجہ پاکستان پیپلز پارٹی کی گزشتہ پانچ سالوں کی بد عنوانی اور کرپشن بھی ہے۔ پی پی پی کی لوٹ کھسوٹ اور کرپشن نے عوام کو مسلم لیگ ن کی طرف راغب کیا ہے۔

گلگت بلتستان میں انتخابی دھاندلی ایک خاص تیکنیک کے ذریعے کی گئی ہے کہ دھاندلی کے پے در پے الزامات کے باوجود سیاسی و مذہبی جماعتیں ان انتخابی دھاندلیوں کو ثابت کرنے میں ناکام نظر آرہی ہیں۔ وفاقی وزیر امورکشمیرو گلگت بلتستان برجیس طاہر کی بطور گورنر گلگت بلتستان تعیناتی کے عمل سے ہی گلگت بلتستان میں انتخابی دھاندلی کی بو محسوس کی جارہی تھی تاہم مختلف سیاسی جماعتوں کی اصرار پر فوج کی تعیناتی کے بعد انتخابی دھاندلی کو تحفظ حاصل ہوا اور فوج کے زیر نگرانی انتخابات کا مطالبہ کرنے والی جماعتیں آج چیخ رہی ہیں۔ انتخابی عمل کو بظاہر صاف شفاف بنانے کے لئے گلگت بلتستان میں بڑے پیمانے پر مذہبی و مسلکی جماعتوں یہاں تک کہ کالعدم مذہبی جماعتوں کو بھی انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت دی گئی تاکہ مذہبی ووٹوں کو بھی تقسیم کیا جا سکے۔

پاکستان پیپلز پاٹی کا الزام ہے کہ کالعدم مذہبی جماعت تحریک اسلامی پاکستان کو پاکستان پیپلز پارٹی کا ووٹ بینک توڑنے کے لئے حصہ دار بنایا گیا جس کی وجہ سے پاکستان مسلم لیگ ن کے امیدار حفیظ الرحمان گلگت حلقہ سے کامیاب ہو گئے اور وہ وزیر اعلیٰ کے مسند پر فائز ہوئے۔ جہاں تحریک اسلامی پاکستان کو مستفید کرایا گیا وہاں مجلس وحدت مسلمین کو بھی سرکاری مشنری کے ذریعے انتخابی عمل میں معاونت فراہم کی جاتی رہی اور اس وقت بھی گریڈ 16 کاایک سرکاری ملازم مدرس محمدر ضا ماڈل سکول تھوار روندو مجلس وحدت مسلمین کے سکردو حلقہ روندو سے مرکزی عہدیدار ہیں اور الیکشن کی تمام تر کمپئن میں سرکارکی طرف سے انہیں ہر قسم کی معاونت حاصل رہی اور اب بھی ہے۔ جبکہ قانون کے مطابق کسی سرکاری ملازم کا کسی سیاسی عمل میں دخل ممنوع قرار دیا گیا ہے ۔ تاہم جب محکمہ تعلیم کے اعلیٰ ذمہ داران کی توجہ اس سیاست دان استاد کی جانب مبذول کرایا جاتا ہے تو جواب ملتا ہے کہ ہم بے بس ہیں کیونکہ اس کو سرکاری آشیر باد حاصل ہے۔ اس طرح کے کئی اور دیگر سرکاری ملازمین کی ایم ڈبلیو ایم میں سیاسی عہدوں پر فائز ہونا اس بات کو تقویت دے رہی ہے کہ ایم ڈبلیو ایم کے پیچھے سرکاری ایجنسیوں کا ہاتھ ہے۔

انتخابات میں بڑی تعداد میں جعلی پوسٹل بیلٹ استعمال کر کے مسلم لیگ ن کے ہارنے والے امیدواروں کو جیتایا گیا اس کی مثال سکردو حلقہ 1 ہے جہاں پاکستان تحریک انصاف کے امید وار ایک ووٹ سے جیتا تھا بعد میں دو پوسٹل بیلٹ ووٹ آگئے اور پاکستان مسلم لیگ کے امید وار کو برتری حاصل ہوگئی ، یوں پوسٹل بیلٹ سے جیت ہار میں بدل گیا اور ہار جیت میں۔ پاکستان تحریک انصاف نے الزام لگایا ہے کہ ان کے امیدوار کو جعلی پوسٹل بیلٹ سے ہرایا گیا ہے۔

ضلع دیامر کے حلقہ داریل میں مبینہ دھاندلی کو روکنے کے لئے احتجاج کرنے والوں اوراسیکورٹی اہلکاروں کے درمیان تصادم ہوا جس میں دو سکیورٹی اہلکار زخمی ہو گئے۔ تصادم کے بعد5 ووٹرز کو انسداد دہشت گردی کے مقدمے میں گرفتار کیا گیا ہے اور کئی ملزموں کے گھر مسمار کر دئیے گئے ہیں۔ مشتعل افراد نے بیلٹ باکس کو آگ لگا دی جس کی وجہ سے ابھی تک انتخابی نتائج روک کر رکھا ہوا ہے۔ چیلاس میں انتخابات کے دوران سکیورٹی اداروں کے ساتھ تصادم کے بعد درجنوں لوگوں کے گھروں کو آگ لگانے کی اطلاعات بھی موجود ہیں ۔

راقم اور قراقرم نیشنل موومنٹ کے چیئرمین جاوید حسین نے آزاد حیثیت سے الیکشن میں حصہ لیا تاہم ہماری بطور آزاد امید وار انتخابات میں شمولیت کو بھی سرکار کی طرف سے نا پسندیدہ قرار دیا گیا ۔ ہمارے خلاف ہر طرح کا پرو پیگنڈہ کیا گیا ۔ ہمیں انتخابی ریلی کی اجازت نہیں دی گئی اور ملک دشمن ، غدار اور غیر ملکی ایجنٹ قرار دے کر سادہ لوح عوام کو ہماری حمایت سے باز رکھا گیا۔ ہمارے انتخابی جھنڈوں کو لوگوں کے گھروں سے یہ کہہ کر اتروایا گیا کہ یہ اقوام متحدہ کا جھنڈا ہے اور بعض دیہاتوں میں کہا گیا کہ یہ انڈیا کا جھنڈا ہے اسے مت لگاو ورنہ جیل جاو گے۔ ہمارے حامیوں کو ہمیں ووٹ دینے کی صورت میں کڑی سزائیں دینے اور ملازمتوں سے نکالنے کی دھمکیاں بھی دی گئی۔

انتخابات میں اس بار مذہبی کارڈ کا استعمال بڑے پیمانے پر ہوا۔ مذہبی کارڈ تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں نے استعمال کئے۔ تحریک اسلامی ، ایم ڈبلیو ایم اور جمعیت علماء اسلام نے مذہبی بنیاد پر ووٹ حاصل کئے۔ تحریک اسلامی اور ایم ڈبلیو ایم کو پڑنے والے تمام ووٹ مذہبی عقیدت کی بنیاد پر تھی۔ ووٹوں کی خرید و فروخت پر پابندی کے باوجود انتخابات میں جیتنے کے لئے امیداروں نے کروڑوں روپے خرچ کئے، انفرادی ووٹ خریدنے کے عمل کے ساتھ ساتھ ووٹرز کو اجتماعی طور پر بھی خریدا گیا لیکن الیکشن کمیشن نے صورت حال سے با خبر ہونے کے باوجود کوئی ایکشن نہیں لیا، جس کی وجہ سے با اثر لوگ جیت گئے اور سیاسی کارکنوں کو شکست ہوئی ۔

گلگت بلتستان کے انتخابات کا قوم پرست تنظیموں نے بائیکاٹ کر رکھا تھا۔ الیکشن سے چند دن قبل حکومت نے دھاندلی زدہ انتخابات کے خلاف گلگت میں اقوام متحدہ کے ذیلی دفتر میں یاد داشت پیش کرنے کے لئے جانے والے قوم پرست قائدین کو گرفتار کر کے ان پر دہشت گردی کے مقدمات بنا کر انہیں جیل بھیج دئیے۔ ان سرکردہ قوم پرست رہنماوں میں بانی گلگت بلتستان کے فرزند کرنل(ر) نادر حسن ، بالاورستان نیشنل فرنٹ کے صدر صفدر علی ، معروف قوم پرست رہنماء افتخار حسین، وسیم عباس اور ان کے دیگر ساتھی شامل ہیں جو ان دنوں گلگت جیل میں اسیری کی زندگی گزار رہے ہیں۔ قوم پرستوں کے خلاف بغاوت اور دہشت گردی کا مقدمہ در اصل حکومت کی انتخابی دھاندلیوں کو منظر عام پر آنے سے روکنا تھا لیکن فافین سمیت انتخابی عمل پر نظر رکھنے والی قومی اور عالمی اداروں نے گلگت بلتستان کے انتخابات کو غیر شفاف، غیر آئینی اور جانبدارانہ قرار دئیے ہیں ۔

گلگت بلتستان میں انتخابات کا ڈرامہ نو آبادیاتی نظام کو تازہ آکسیجن فراہم کر کے چہروں کی تبدیلی کے ذریعے عالمی رائے عامہ کو یہ تاثر دینے کی کوشش کا حصہ ہے کہ گلگت بلتستان کے لوگوں کو حق رائے دہی حاصل ہیں۔ حق رائے دہی کی اس جعلی عمل کو بھی انتخابی دھاندلی کے ذریعے مشکوک بنانے اور اپنی پسند کی کٹھ پتلی حکومت بنانے کے باوجود بھی گلگت بلتستان کا قومی سوال کا کوئی جواب دینے میں اسلام آباد کی سرکار ناکام نظر آرہی ہے۔ عوام پوچھتے ہیں کہ کیا ان انتخابات کے بعد گلگت بلتستان کی متنازعہ حیثیت ختم ہو گئی ؟ کیا ان انتخابات کے بعد گلگت بلتستان کے لوگوں کو پاکستان کی قومی اسمبلی اور سینیٹ میں نمائندگی مل گئی؟ کیا ان انتخابات کے بعد گلگت بلتستان تنازعہ کشمیر کا حصہ نہیں رہا؟ کیا ان انتخابات کے بعد گلگت بلتستان کے عوام کو آئینی و بنیادی حقوق مل گئی؟ کیا ان انتخابات سے گلگت بلتستان کو خود مختاری و آزادی نصیب ہوئی ؟ کیا ان انتخابات کے بعد گلگت بلتستان پاکستان کا آئینی صوبہ بن گیا؟کیا ان انتخابات کے بعد گلگت بلتستان کی قومی تشخص بحال ہو گئی اور کیا ان انتخابات کے بعد گلگت بلتستان میں انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں ، کرپشن ، اقرباء پروری اور لوٹ کھسوٹ میں کوئی کمی آئے گی۔ یہ وہ چندسوالات ہیں جن کی بنیاد پر گلگت بلتستان سے قومی ہمدردی رکھنے والے اور یہاں کے عوام کے دکھ درد کو سمجھنے والے ان انتخابات کو غلامی کی ساعتوں کو طول دینے کا حکومتی حربہ سمجھتے ہیں ۔

Comments are closed.