سکردو (رضاقصیر) پاکستان تحریک انصاف گلگت بلتستان کے رہنما سید امجد علی زیدی نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ کھرمنگ میں حالیہ الیکشن علاقہ دشمن مفاد پرست عناصر کے ساتھ کھرمنگ کے نظریاتی گروپ کا مقابلہ تھا جس میں عوام نے تعمیر و ترقی کے دشمنوں کے خلاف کھل کر اپنی رائے کا اظہار کیا۔ اسد زیدی شہید گروپ جو کہ کھرمنگ کے ہردلعزیز سیاسی قوّت ہے کے مقابلہ میں پاکستان پیپلز پارٹی کے نام نہاد امیدوار، ایم ڈبلیو ایم، اسلامی تحریک اور مسلم لیگ (ن)، معرفی فائونڈیشن مافیا، ایجوکیشن مافیا، محمد علی شاہ مافیا اور دیگر مافیا ایک ہوگئے اور پیسوں کا بے دریغ استعمال ہوا۔ مزید برآں مُردوں کے ووٹ کاسٹ کیئے گئے اورتمام روایتی بے ضابطگیوں کا مکمل اور آزادانہ استعمال ہوا۔ اس کے باوجود پانچ ہزار ووٹ تحریک انصاف کو پڑے، یوں زیدی گروپ کے نظریے کو عوام نے پسند کیا اور مدِّ مقابل مسلم لیگ (ن) کے امیدوار کو 180کی مصنوعی برتری مل سکی۔

عوام نے اپنا فیصلہ تحریک انصاف کے حق میں دے دیا تاہم زیدی گروپ نے فیصلہ کیا ہے کہ ان بے ضابطگیوں کے خلاف الیکشن ٹربیونل میں مقدمہ لڑیں اور دوبارہ گنتی نہ ہونے کے زیادتی کے خلاف بھی عدالتی دروازہ کھٹکھٹایا جائے گا۔ کھرمنگ میں پیپلز پارٹی کے نامزد امیدوار جو کہ سب ڈویژن کھرمنگ کا صدر بھی تھا نے اپنی پارٹی کے منہ پر طمانچہ مار کر عوام کے دل کا بوجھ ہلکا کر دیا اور پیپلز پارٹی کا ٹکٹ حاصل کرکے اخراجات بھی پارٹی سے حاصل کرنے کے باوجود مسلم لیگ ن کے امیدوار کے حق میں دستبردار ہوکر اپنا اصلی چہرہ بے نقاب کیا اور مہدی شاہ کو کھرے کھوٹے کا احساس دلاکر اس کی آنکھیں کھلوا دیں۔ دیر سویر کی بات تھی مہدی شاہ جن ہاتھوں میں کھیل رہا تھا اس کا یہی انجام نوشتہ تقدیر تھا۔ مہدی شاہ کی ناعاقبت اندیش پالیسیوں کی وجہ سے گلگت بلتستان میں پیپلز پارٹی ایک حرف غلط بن چکی ہے جس کو عوام نے سیاسی صفحہ سے مکمل مٹا دیا ہے۔

اسد زیدی شہید گروپ جو کہ ایک نظریاتی گروپ ہے جس کی کھرمنگ میں دور رَس اور طویل جدوجہد نے عوام کے دلوں میں گھر پیدا کر لیا ہے جس نے حالیہ الیکشن میں یک طرفہ طور پر پانچ ہزار ووٹ حاصل کیئے جبکہ مدِ مقابل علاقے کے تمام سازشی عناصر اور آٹھ مذہبی اور سیاسی قوتوں نے مل کر زیدی گروپ کے خلاف الائنس بنا لیا اور اس کے باوجود پانچ ہزار ووٹ ہی لے سکے اور صرف 180 کی مصنوعی اور ملی بھگت کی برتری حاصل کر سکیں۔ حالیہ الیکشن میں زیدی گروپ کی کامیاب حکمت عملی نے آغا محمد علی شاہ جو ایک زمانے میں زیدی گروپ کے مدِ مقابل قوّت سمجھا جاتا تھا اس کے گروپ کو ہمیشہ کیلئے دفنا دیا کیونکہ اُس کا کوئی نظریہ نہیں تھا اس کا نظریہ سیاسی مقاصد کیلئے مذہب کا بیساکھی استعمال کرنا اور ذاتی مفاد حاصل کرنا تھا جسے کھرمنگ کے عوام نے مسترد کر دیا اور زیدی شہید کے نظریات کے سامنے عوامی ردِ عمل سے خوفزدہ ہوکر ایک ایسے شخص کے سامنے گٹھنے ٹیکنے اور اس کے پر کے نیچے پناہ لینے پر مجبور ہوگئے جو یونین کونسل کے ممبر نہیں بن سکتا تھا۔

نہ صرف محمد علی شاہ بلکہ معرفی فائونڈیشن مافیا اور ایجوکیشن مافیا کو بھی عافیت اسی شخص کے زیر سایہ پناہ لینے میں نظر آئی۔ یوں اسد زیدی شہید کی شہادت کے بعد بھی اس کا نظریہ زندہ ہے اور اس کا گروپ کھرمنگ کی مضبوط اور نظریاتی قوت بن کر میدان میں ہے جبکہ محمد علی شاہ کی ناکام حکمت عملی اور غلط سیاسی پالیسیوں کی وجہ سے اس کی حیات میں ہی اس کا گروپ ختم ہوکر نام و نشان مٹ چکا ہے اور وہ کھرمنگ کا ناپسندیدہ شخصیت مشہور ہوگئے ہیں۔ اپنے ہوم سٹیشن پاری سے عوامی ردِ عمل سامنے آیا اور زیدی شہید گروپ ایک مضبوط قوت کے طور پر کھرمنگ کے علاوہ پاری میں بھی ابھرگیا۔ ساتھ ہی پاری سے آغا محمد علی شاہ کے حمایت یافتہ مسلم لیگ ن کو ایم ڈبلیو ایم گروپ اور اسد زیدی گروپ دونوں کی حمایتیوں کی شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا اور یہ مزاحمت اس حد تک غیر معمولی ہوئی کہ امن و امان کے لیے محمد علی شاہ کو اپنے ہی گھر پاری میں پولیس کی سکیورٹی طلب کرنی پڑی۔ یہ سب زیدی گروپ کی طویل اور کامیاب سیاسی حکمت عملی کانتیجہ تھا جس سے خوفزدہ ہوکر کھرمنگ کے عوام کے تمام عوامی ناپسندیدہ سازشی عناصر کو ایک نام نہاد شخص سے پناہ لینے پر مجبور کیا۔انہوں نے کہا کہ مجھے عوام کی تائید حاصل ہے اور میں جیت گیا ہوں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ وہ اپوزیشن میں رہ کر عوامی خدمت کرتے رہیں گے اور ہر قسم کے حالات کا ڈٹ کر مقابلہ کیا جائے گا اور اپنی سیاسی حکمت عملی اور علاقے کی خدمت میں اپنی جدوجہد جاری رکھے گے۔

Comments are closed.