یہاں چند تلخ مگر ناقابل تردیدحقائق حکام بالا کے گوش گزارکر رہا ہو ں اس امید پہ کہ شائدکسی خلق خدا کی نظر اس تحریر پہ پڑے اور سو دنوں کی ترجیحات کو مرتب کرنے میں میرا بھی کوئی حقیرسا حصہ ہو۔


شجاعت علی

حیرت کی بات یہ ہے کہ الیکشن سے قبل سیاسی جماعتیں عوام کے سامنے اپنے انتخابی منشور تو لے آتی ہیں لیکن ترجیحات کا تعین برسرِاقتدار آنے کے بعدہی کرتی ہیں۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ عوامی مینڈیٹ حاصل ہوتے ہی سیاسی جماعتیں بغیر وقت ضائع کئے اپنے منشور پہ عملدر آمد شروع کرے مگر ایسا اکثر نہیں ہوتا ہے۔ بہتر ہوتا اگر سیاسی جماعتیں اپنے منشور میں ہی اپنی ترجیحات کا تعین کر لیتے۔ بظاہر یہ منصوبہ بندی اور حکمت عملی کا فقدان لگتا ہے۔ اخباری اطلاعات کے مطابق نو منتخب وزیر اعلی گلگت بلتستان نے حلقہ ۳ گلگت سے کامیاب ہونے والے اُمیدوار ڈاکٹر محمد اقبال کی سربراہی میں ایک دس رُکنی کمیٹی قائم کردی ہے جن کے ذمے مسلم لیگ کی نومنتخب حکومت کے لئے سو دنوں کی ترجیحات کا تعین کرنا ہے۔

یہاں چند تلخ مگر ناقابل تردیدحقائق حکام بالا کے گوش گزارکر رہا ہو ں اس امید پہ کہ شائدکسی خلق خدا کی نظر اس تحریر پہ پڑے اور سو دنوں کی ترجیحات کو مرتب کرنے میں میرا بھی کوئی حقیرسا حصہ ہو۔

  :پانی اور بجلی کا گٹھ جو ڈ

ماہر معاشیات کا خیال ہیں کہ آبادی میں ہوشربا اضافے سے مستقبل میں قدرتی وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم اور قلت سے اقوام عالم کے درمیان تناؤ پیدا ہو سکتا ہیں۔ زندہ رہنے کے لئے خوراک، پانی اور ہوا کا ہونا اشد ضروری ہے۔ دراصل پانی سے ہی ذندگی ہے۔ اِنسانی بقا ء کے لئے پانی اور بجلی کا آپس میں گہرا رشتہ ہے۔ گلگت بلتستان کے تناظر میں دیکھا جائے تو پانی اور بجلی کا بحران آئے روز شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ بد قسمتی سے ہم عموماٌ وقت سے قبل اپنے ضروریات کا صحیح اندازہ نہیں لگاتے ۔ گلگت شہر میں ایک ذندہ مثال دنیور اور سُلطان آباد کے درمیان بہنے والا ندی کا پانی ہے۔ موسم گرما میں سارا پانی دریا ہنزہ کی نذر ہو جاتا ہے اور موسم بہار میں پانی کو ڈھونڈنا پڑتاہے۔ مارچ تا مئی یہاں کے باسی پانی کے بوند بوند کو ترستے ہیں چونکہ ندی میں پانی کا بہاؤ کم او ر طلب یا ضرورت ذیادہ ہوتی ہے۔ آبادکاری کے شروع ہوتے ہی ہر کوئی پانی کی کمی کا رونا روتا نظر آتا ہے مگر گرمی میں اضافے کے ساتھ پانی کی وافر مقدار ندی میں دستیاب ہو جاتی ہے اور فالتو پانی دریا ہنزہ میں شامل ہو کے ضائع ہوتا رہتا ہے اور کسی کو اسکی پرواہ ہی نہیں ہوتی ۔

اس سال جوٹیا ل ا ورذوالفقار آباد میں بھی پانی کی قلت کا معاملہ خوب موضوع بحث رہا۔ ہماری منصوبہ بندی ، حکمت عملی اور دوراندیشی کا اندازہ اسی سے لگایا جا سکتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر پانی کو ذخیرہ کرنے کا بندوبست ڈیم کی صورت میں کیا جائے تو اس سے نہ صرف اچھی خاصی بجلی پیدا کی جاسکتی ہے بلکہ پورے سال پانی کی بِلاتعطل فراہمی کو بھی یقینی بنایا جا سکتا ہے اور مستقبل میں پیش آنے والے مسائل کودرست وقت پہ پرکھا جا سکتا ہے ۔ حکومت وقت سے استدعا ہے اپنی طویل المدتی مقاصد میں چھوٹی ڈیموں اور بجلی گھروں کی تعمیر کو لازماٌ جگہ دیں تاکہ مستقبل کے چیلینجز سے نمٹا جا سکیں۔ مقامی آبادی کے تعاون سے گاؤں، تحصیل یا ضلع کی سطح پر اگر چھوٹے چھوٹے ڈیم اور بجلی گھر قائم کئے جائیں توانہیں تعمیر کرنا، چلانا، مرمت کرنا، اور سنبھالنا قدرے آسان عمل ہو گا۔ ایک محتاط انداذے کے مطابق گلگت بلتستان میں پن بجلی کے ذریعے چالیس ہزار میگاواٹ تک بجلی پیدا کرنے کی گنجائش موجود ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ دستیاب قدرتی وسائل سے بھرپور استفادہ کیا جائیں۔

   : صحت اور صفائی 

صحت اور صفائی کا آپس میں چولی دامن کا ساتھ ہے۔ گلگت شہر میں ان دنوں آپ کو جگہ جگہ گندگی کے ڈھیر بکھرے نظر آئیں گے۔ کوڈا کرکٹ کو ٹکانے لگانے کا کوئی معقول بندوبست نہیں اور تو اور ہسپتالوں میں صفائی کا جو بندوبست ہیں وہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ گلگت سے کو نوداس یونیورسٹی روڈ پر قراقرم یونیورسٹی جاتے ہوئے روڈ کے ساتھ ساتھ کوڈاکرکٹ کا جو انبھا ر لگا ہوا ہے وہاں سے گزرتے ہوئے منہ پہ ہاتھ رکھ کے بددعائی دینے کے علاوہ اور کوئی چارہ ہی نہیں۔ جب کبھی کسی اعلی شخصیت (وی آئی پی)نے اس روڈ سے گزرنا ہو تو میونسپل ایڈمینسٹریشن کے عملے کے پاس کوڈاکرکٹ کو دریا گلگت میں دریا بُرد کرنے کا سب سے آسان طریقہ موجود تو ہے جان چھڑانے کا۔ اور نہ جانے کتنے لوگ دریا گلگت کے اس آلودہ پانی کو  استعمال کرتے ہونگے۔

دفتروں میں سگریٹ نوشی کے لئے مخصوص جگہ مختص کیا جائے تاکہ وہ افراد متاثر نہ ہوں جو سگریٹ نوشی نہیں کرتے۔ اس عمل سے دفتروں میں کام کرنے کا ماحولبہتر ہوگا۔ پبلک ٹرانسپورٹ میں بھی سگریٹ نوشی کی حوصلہ شکنی کی جائے۔

عوامی مقامات میں کوڑا کرکٹ کو ٹکانے لگانے کے لئے ڈسٹ بِن کا استعمال لاذمی قرار دیا جائے۔ ماحول کو صاف ستھرا رکھنے کے لئے ذیادہ سے ذیادہ شجرکاری کی جائے۔ لوگوں میں ماحولیاتی آلودگی کے اسباب اور تدارک کے بارے میں شعور پیدا کرنے کے لئے آگاہی مہم چلائی جائے۔ انوائرمنٹل پروٹیکشن ایجنسی کو ایک فعال اور متحرک ادارہ بنایا جائے۔

:تعلیم اور روزگار 

اِن دنوں گلگت بلتستان میں بے روزگاری عروج پہ ہے۔ صرف قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی سے ایک سال میں سینکڑوں طلباوطالبات فارغ التعصیل ہو کر روزگار کی تلاش میں مگن ہو جاتے ہیں۔ فارغ التعصیل ہونے والے بچوں کا تناسب برسرِروزگار ہونے والے بچوں سے کہیں ذیادہ ہیں۔ انڈسٹریز کا وجود گلگت بلتستان میں نہ ہونے کے برابر ہیں۔ سرکاری نوکری کا حصول جوئے شِیر لانے سے کم نہیں۔ نجی شعبے میں ملازمت کا حصول بغیر تجربے کے ممکن ہی نہیں۔ روزگار ملے گا تو تجربہ حاصل ہوگا جب روزگار نہیں تو تجربہ کہاں سے آئے گا۔ کاروبار کرنے کے لئے سرمایہ نہیں، ملازمت کے حصول کے لئے ریفرنس نہیں اور مقابلے کے امتحان میں امیدواروں کی ایک لمبی قطار۔ ایسے حالات میں حکومت وقت کو کئی پہلوؤں سے تعلیم سے فارغ ہونے والے نوجوان نسلوں کے لئے منصوبہ بندی کرنی ہو گی۔

نِت نئے ہنر سیکھنے سے لوگ باعزت طریقے سے روزی کمانے کے اہل ہو سکتے ہیں۔ نئے روذگار کے مواقع پیدا کرنا، فنی تعلیم وتربیت کا بندوبست، ہنر سیکھنے اور سکھانے کے لئے وسیلے تلاش کرنا، پبلک پرائیوٹ پارٹنرشپ کو فروغ دینا، سرمایہ کاری، مائیکروفائننسنگ(چھوٹے قرضوں کا حصول) اور دیگر کئی طریقوں سے حکومت بے روزگاری اور مہنگائی کے جن پہ قابو پا سکتا ہے۔ گلگت بلتستان میں بے پناہ انسانی وسائل دستیاب ہیں مگر ان وسائل کو بروئے کار لانے کی ضروررت ہیں۔ ہمارے ہاں ٹیلنٹ ، استعداد اور ہنرمند افرادی قوت کی بلکل کمی نہیں یہ الگ بات ہے کہ ہم نے ان ہیروں کو ڈھونڈ نکالنے کے لئے کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی ہے۔

 : ذرائع آمدورفت او ر مواصلات

گلگت بلتستان میں پائیدار ترقی تب ممکن ہے اگر ذرائع آمدورفت او ر مواصلات کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے۔ ترقی روڈ کے ذریعے ہی آتی ہے۔ دور افتادہ اور پسماندہ علاقوں میں روڈ کی خستہ حالت عام آدمی کو سستی، آرام دہ اور معیاری سفری سہولیات پہنچانے کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے۔ بہت سارے علاقوں میں عوام کو روزانہ کی بنیاد پر انتہائی پر خطر اور دشوار گزار راستوں سے سفر کرنا پڑتا ہے۔ کچی سڑکوں کی مرمت، توسیع، اور پختگی سے دور افتادہ علاقے روڈ ٹومارکیٹ کے ثمرات حاصل کر سکیں گے۔ کچے راستوں کو میٹالک(پختہ) کرنے سے وقت اور پیسوں کی بچت ہوگی۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ گلگت بلتستان کے انتہائی پر خطر راستوں کا سروے کرکے انہیں بہتر کرنے کے لیے منصوبہ بندی کی جائے۔ ذرائع آمدورفت او ر مواصلات کی بہتری سے سیاحت کو فروغ حاصل ہو گا۔ گلگت بلتستان میں ذرائع مواصلات ملک کے دیگر علاقوں کی نسبت بہت خراب ہے۔ اس وقت پاکستان کے بڑے شہروں میں لوگ تھری جی اور فور جی ٹیکنالوجی سے مستفید ہو رہے ہیں جبکہ گلگت بلتستان میں ایس کام کی اجارہ داری ہونے کے باؤجود سروس کا معیار انتہائی ناقص ہے۔ بہت سارے گاؤں میں ابھی بھی ایس کام کی سروس دستیاب نہیں۔ گلگت شہر کے مضافات مثلاٌ جوتل، رحیم آباد، نومل، سلطان آباد وغیرہ میں لینڈلائن پہ انٹرنیٹ کی سہولت مہیا نہیں۔ گلگت بلتستان کے بیشتر علاقوں میں موبائل سروس اگر موجود بھی ہے تو کمزور سگنلز کی وجہ سے کال ڈراپ ہونے اور کال نہ ملنے کی شکایات عام ہیں۔

  :شفافیت، جوابدہی او ر میرٹ کا نظام 

ذمہ داری اور جوابدہی ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔ جس معاشرے میں ذمہ داری کا تعین ہو مگر جوابدہی نہ ہو تو وہ معاشرہ کئی سماجی برائیوں کا شکار ہو جاتا ہے۔ خود احتسابی بہترین حکمت عملی ہے۔ شفافیت برقرار رکھنے کے لئے معلومات تک رسائی ہر فرد کا بنیادی حق ہے۔ جہاں معلومات کو خفیہ رکھنے کا رواج ہو وہاں کئی لوگ احساس محرومی اور احساس کمتری کا شکار ہو جاتے ہیں۔

:کرپشن فری طرزحکمرانی 

کرپشن کے ناسور نے گلگت بلتستان کو بُری طرح متاثر کیا ہواہے۔ حقائق کچھ بھی ہو عمومی تاثریہی ہے کہ گلگت بلتستان میں گذشتہ دور حکومت میں بے اِنتہا کرپشن ہوئی۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ موجودہ حکومت ماضی کے تجربات سے سبق سیکھتے ہوئے کرپشن فری طرز حکمرانی کی ایک بہتر مثال قائم کرے۔ جزا اور سزا کا نظام متعارف کیا جائے اور جو کوئی کرپشن کرے اسے قانون کے مطابق سزا دی جائے۔

عوام اگلے انتخابات میں کارکردگی کی بنیاد پہ اپنے نمائندے چنیں گے۔ جھوٹے وعدووں کا دور گزر گیا۔ جمہوریت پہ لوگوں کا اعتبار تبھی ممکن ہے جب جمہوریت کے ثمرات عام آدمی کو ملے۔ امید کی جاتی ہے موجودہ حکومت عوامی مینڈیٹ کا خیال رکھتے ہوئے لوگوں کے توقعات پرپورا اُترنے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑیں گی۔

Comments are closed.