گلگت (پ ر) مسلم لیگ ن یوتھ ونگ ضلع سکردو کے صدر و سابق امیدوار قانون ساز اسمبلی حلقہ 2سکردو سید محمد علی شاہ نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ گلگت بلتستان کی تعمیر و ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ انتہا پسندی اور فرقہ واریت ہے۔ مسلم لیگ ن کی صوبے میں اولین ترجیح فرقہ واریت کا خاتمہ ہے۔ گلگت بلتستان کے عوام نے مسلم لیگ ن کو جو بھاری مینڈیٹ دیا ہے اس پر پورا اترنے کی کوشش کرے گی۔

بعض مذہبی شخصیات نے میرے حلقے میں گمراہ کن فتویٰ لگا کر عوام کے جذبات کو ابھارنے کی کوشش کی اور کربلا کے واقع کو الیکشن کمپیئن کے طور پر استعمال کیا گیا اور معصوم لوگوں کو گمراہ کیا۔ مذہبی شخصیات کی جانب سے ذاتی مفادات کیلئے مذہبی رہنماوں سے وابستہ واقعات کو الیکشن کمپیئن کرنے کے طور پر استعمال کرنا قابل مذمت ہے۔ اس کے علاوہ مذہبی شخصیات کی جانب سے پیسے بانٹ کر سادہ لوح عوام کی ضمیر خریدنے کی کوشش غیر اسلامی، غیر اخلاقی اور غیر قانونی اقدام ہے، ہم ایسے نام نہاد مذہبی ٹھیکیداروں کو باور کرانا چاہتے ہیں کہ مذہبی رہنماوں اور ان سے وابستہ واقعات کو ذاتی مفادات اور بیرونی ایجنڈا کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کی گئی تو سخت مذاحمت کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ ن ملک گیر جماعت ہے گلگت بلتستان کے حالیہ الیکشن میں مسلم لیگ ن کو شکست دینے کی دلیل ہے کہ پاکستان مسلم لیگ ن کے مرکزی قائدین اور وفاقی حکومت کے اقدامات سے گلگت بلتستان میں پاکستان مسلم لیگ ن کی شاندار کامیابی اور گلگت بلتستان کے نڈر بے باک اور قابل شخصیت حافظ حفیظ الرحمن کی وزیر اعلیٰ منتخب ہونے کے بعد گلگت بلتستان میں تعمیرو ترقی کا نیا دور شروع ہوگا اور عوام بہت جلد مثبت تبدیلی محسوس کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے حالیہ انتخابات میں غیر جانبدار رہ کر اہل اور قابل لوگوں کے انتخاب کی ہدایت کرنے والے مذہبی شخصیات بالخصوص امام جمعہ والجماعت علامہ شیخ محمد حسن جعفری کے کردار کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔

سید محمد علی شاہ نے مزید کہا کہ گلگت بلتستان میں صاف و شفاف انتخابات کے ذریعے پرامن طور پر اقتدار کی منتقلی پر گورنر گلگت بلتستان برجیس طاہر کو خراج تحسین پیش ہیں۔ گورنر گلگت بلتستان برجیس طاہر گلگت بلتستان کے عوام سے والہانہ عقیدت رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مذہبی رہنماوں کی جانب سے فتوے لگانے کے باوجود میرے حلقے کے عوام نے مجھ پر بھرپور اعتماد کا اظہار کرنے پر بے حد مشکور ہوں۔

Comments are closed.